تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب

دیوان اول غزل 177
ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب
تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب
اس پر لہو کے پیاسے ہیں تیرے لبوں کے رشک
اک نام کو رہی ہے عقیق یمن میں آب
شب سوز دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
روئی ہے یاں تلک کہ بھرا ہے لگن میں آب
دل لے گیا تھا زیرزمیں میں بھرا ہوا
آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب
رویا تھا تیری چشم و مژہ یاد کرکے میں
ہے نیزہ نیزہ تب سے نواح ختن میں آب
ناسور پھونک پھونک کے پیجو خبر ہے شرط
ہے آپ داغ کوچۂ زخم کہن میں آب
دریا میں قطرہ قطرہ ہے آب گہر کہیں
ہے میر موجزن ترے ہر یک سخن میں آب
میر تقی میر