تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف

دیوان اول غزل 251
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف
تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف
کوئی داد دل آہ کس سے کرے
ہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگ
دھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھر
اک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف
بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھو
ہماری طرف سے سحر کی طرف
بخود کس کو اس تاب رخ نے رکھا
کرے کون شمس و قمر کی طرف
نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر
ہوا تھا مری چشم تر کی طرف
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل
نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
مناسب نہیں حال عاشق سے صبر
رکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف
کسے منزل دلکش دہر میں
نہیں میل خاطر سفر کی طرف
رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میر
گئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف
میر تقی میر