تو دل کہ قفل سا بستہ ہے کیسا کھل جاوے

دیوان چہارم غزل 1524
کلید پیچ اگر رقعہ یار کا آوے
تو دل کہ قفل سا بستہ ہے کیسا کھل جاوے
ہماری جان لبوں پر سے سوے گوش گئی
کہ اس کے آنے کی سن گن کچھ اب بھی یاں پاوے
بہار لوٹے ہیں میر اب کے طائر آزاد
نسیم کیا ہے دو گل برگ اگر ادھر لاوے
میر تقی میر