تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 362
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
دلک بے قرار رکھتے ہیں
غیر ہی مورد عنایت ہے
ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
نہ نگہ نے پیام نے وعدہ
نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو
لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور
بس یہی اعتبار رکھتے ہیں
پھر بھی کرتے ہیں میرصاحب عشق
ہیں جواں اختیار رکھتے ہیں
میر تقی میر