تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت

دیوان اول غزل 187
ہر صبح دم کروں ہوں الحاح با انابت
تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت
مت لے حساب طاقت اے ضعف مجھ سے ظالم
لائق نہیں ہے تیرے یہ کون سی ہے بابت
کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
گم ہووے نامہ بر سے یارب مری کتابت
میر تقی میر