تو بلبل آشیاں تیرا ہی میں پھولوں سے چھائوں گا

دیوان پنجم غزل 1538
اگر ہنستا اسے سیرچمن میں اب کے پائوں گا
تو بلبل آشیاں تیرا ہی میں پھولوں سے چھائوں گا
مجھے گل اس کے آگے خوش نہیں آتا کچھ اس پر بھی
جو تو آزردہ ہوتی ہے گلستاں میں نہ آئوں گا
بشارت اے صبا دیجو اسیران قفس کو بھی
تسلی کو تمھاری سر پہ رکھ دو پھول لائوں گا
دماغ نازبرداری نہیں ہے کم دماغی سے
کہاں تک ہر گھڑی کے روٹھے کو پہروں منائوں گا
خشونت بدسلوکی خشمگینی کس لیے اتنی
نہ منھ کو پھیریے پھر یاں نہ آئوں گا جو جائوں گا
ابھی ہوں منتظر جاتی ہے چشم شوق ہر جانب
بلند اس تیغ کو ہونے تو دو سر بھی جھکائوں گا
بلائیں زیر سر ہوں کاش افتادہ رہوں یوں ہی
اٹھا سر خاک سے تو میر ہنگامے اٹھائوں گا
میر تقی میر