تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں

دیوان اول غزل 328
مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں
سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دم
لہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں
اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیک
برنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک
میں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کر
پھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں
ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میں
وگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں
بلا ہوئی ہے مری گوکہ طبع روشن میر
ہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں
میر تقی میر