تعب ایسی گذری کہ مر مر گئے

دیوان چہارم غزل 1505
ہم اس مرتبہ پھر بھی لشکر گئے
تعب ایسی گذری کہ مر مر گئے
نظر اک سپاہی پسر سے لڑی
قریب اس کے تلوار کر کر گئے
بہم مہر ورزی کے سرگرم تھے
خدا جانے وہ لوگ کیدھر گئے
لہو میری آنکھوں میں آتا نہیں
جگر کے مگر زخم سب بھر گئے
رباط کہن میں نہیں میرجی
ہوا جو لگی وے بھی باہر گئے
میر تقی میر