ترحم کہ مت کر ستم پر ستم

دیوان پنجم غزل 1684
تظلم کہ کھینچے الم پر الم
ترحم کہ مت کر ستم پر ستم
علم بازی آہ جانکاہ ہے
رہے ٹوٹتے ہی علم پر علم
جو سو سر کے ہو آئو مانوں نہ میں
عبث کھاتے ہو تم قسم پر قسم
کئی بار آنا ادھر لطف سے
عطا پر عطا ہے کرم پر کرم
خطرناک تھی وادی عشق میر
گئے اس پہ بھی ہم قدم پر قدم
میر تقی میر