ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل

دیوان سوم غزل 1165
نہ خوشہ یاں نہ دانہ یاں جلانا گھاس کیا حاصل
ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل
سکندر ہو کے مالک سات اقلیموں کا آخر کو
گیا دست تہی لے یاں سے یہ کچھ کر گیا حاصل
بلا قحط مروت ہے کہ ہے محصول غلے پر
کہیں سے چار دانے لائو لیویں جابجا حاصل
نہ کھینچیں کیونکے نقصاں ہم تو قیدی ہیں تعین کے
خودی سے کوئی نکلے تو اسے ہووے خدا حاصل
عبارت خوب لکھی شاعری انشاطرازی کی
ولے مطلب ہے گم دیکھیں تو کب ہو مدعا حاصل
بہت مصروف کشت و کار تھے مزرع میں دنیا کے
اٹھا حسرت سے ہاتھ آخر ہمیں یہ کچھ ہوا حاصل
پھرا مت میر سر اپنا گراں گوشوں کی مجلس میں
سنے کوئی تو کچھ کہیے بھی اس کہنے کا کیا حاصل
میر تقی میر