تازہ کیا پیمان صنم سے دین گیا ایمان گیا

دیوان پنجم غزل 1554
عشق صمد میں جان چلی وہ چاہت کا ارمان گیا
تازہ کیا پیمان صنم سے دین گیا ایمان گیا
میں جو گدایانہ چلایا در پر اس کے نصف شب
گوش زد آگے تھے نالے سو شور مرا پہچان گیا
آگے عالم عین تھا اس کا اب عین عالم ہے وہ
اس وحدت سے یہ کثرت ہے یاں میرا سب گیان گیا
مطلب کا سررشتہ گم ہے کوشش کی کوتاہی نہیں
جو طالب اس راہ سے آیا خاک بھی یاں کی چھان گیا
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہوجاوے تو سر سے کیا احسان گیا
ترک بچے سے عشق کیا تھا ریختے کیا کیا میں نے کہے
رفتہ رفتہ ہندستاں سے شعر مرا ایران گیا
کیونکے جہت ہو دل کو اس سے میر مقام حیرت ہے
چاروں اور نہیں ہے کوئی یاں واں یوں ہی دھیان گیا
میر تقی میر