بے قراری کو جانے تب کوئی

دیوان اول غزل 455
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
بے قراری کو جانے تب کوئی
ہاں خدا مغفرت کرے اس کو
صبر مرحوم تھا عجب کوئی
جان دے گو مسیح پر اس سے
بات کہتے ہیں تیرے لب کوئی
بعد میرے ہی ہو گیا سنسان
سونے پایا تھا ورنہ کب کوئی
اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تک
آہ و نالہ کرے نہ اب کوئی
ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میں
یوں تو شاداں ہے اور سب کوئی
ناسمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہے
مجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی
اور محزوں بھی ہم سنے تھے ولے
میر سا ہوسکے ہے کب کوئی
کہ تلفظ طرب کا سن کے کہے
شخص ہو گا کہیں طرب کوئی
میر تقی میر