بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی

دیوان پنجم غزل 1774
بے یار ہوں بیکس ہوں آگاہ نہیں کوئی
بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی
کیا تنگ مخوف ہے اس نیستی کا رستہ
تنہا پڑا ہے جانا ہمراہ نہیں کوئی
موہوم ہے ہستی تو کیا معتبری اس کی
ہے گاہ اگر کوئی تو گاہ نہیں کوئی
فرہاد کو مجنوں کو موت آگئی ہے آگے
کس سے کہیں درد دل اب آہ نہیں کوئی
میر اتنی سماجت جو بندوں سے تو کرتا ہے
دنیا میں مگر تیرا اللہ نہیں کوئی
میر تقی میر