بے دماغی سے با خطاب رہا

دیوان ششم غزل 1785
اپنے ہوتے تو با عتاب رہا
بے دماغی سے با خطاب رہا
ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا
ناکسی سے ہمیں حجاب رہا
نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا
کم بہت موسم شباب رہا
کارواں ہائے صبح ہوتے گیا
میں ستم دیدہ محو خواب رہا
ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے
ضعف سے حال دل خراب رہا
گھر سے آئے گلی میں سو باری
یار بن دیر اضطراب رہا
ہم سے سلجھے نہ اس کے الجھے بال
جان کو اپنی پیچ و تاب رہا
پردے میں کام یاں ہوا آخر
واں سدا چہرے پر نقاب رہا
سوزش سینہ اپنے ساتھ گئی
خاک میں بھی ہمیں عذاب رہا
حیف ہے میر کی جناب سے میاں
ہم کو ان سمجھے اجتناب رہا
میر تقی میر