بے خبر مت رہو خبر ہے شرط

دیوان چہارم غزل 1408
دل لگی کے تئیں جگر ہے شرط
بے خبر مت رہو خبر ہے شرط
عشق کے دو گواہ لا یعنی
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط
میر تقی میر