بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش

دیوان پنجم غزل 1636
کرکریں ہیں لجّوں لطموں کے دڑیڑے سب کے گوش
بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش
صومعے کو اس ہواے ابر میں دیتے ہیں آگ
میکدے سے باہر آتے ہی نہیں ذی عقل و ہوش
تنگ چولی سوجگہ سے کسمساتے ہی چلی
تنگ درزی سے کبھی ملتا نہیں وہ تنگ پوش
وائے رے پروانہ کیسا چپکے جل کر رہ گیا
گرمی پہنچے کیا اچھلتا ہے سپند ہرزہ کوش
کیسا خود گم سر بکھیرے میر ہے بازار میں
ایسا اب پیدا نہیں ہنگامہ آرا دل فروش
میر تقی میر