بہ گیا خون ہو جگر افسوس

دیوان چہارم غزل 1402
اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس
بہ گیا خون ہو جگر افسوس
دیدنی ہے یہ خستہ حالی لیک
ایدھر اس کی نہیں نظر افسوس
عیب ہی عیب میرے ظاہر ہیں
مجھ کو آیا نہ کچھ ہنر افسوس
میر ابتر بہت ہے دل کا حال
یعنی ویراں پڑا ہے گھر افسوس
میر تقی میر