بہت پرہیز کر ہم سے ہمیں بیمار کرتے ہیں

دیوان دوم غزل 884
امید دل دہی تھی جن سے وے آزار کرتے ہیں
بہت پرہیز کر ہم سے ہمیں بیمار کرتے ہیں
کوئی ہم سا بھی اپنی جان کا دشمن کہیں ہو گا
بھری مجلس میں بیٹھے عشق کے اقرار کرتے ہیں
نشاں دے ہیں جہاں اس کا وہ ہرجائی نہیں ملتا
محلے کے ہمیں اب لوگ یوں ہی خوار کرتے ہیں
حجاب ناکسی سے مر گئے روپوش کب تک ہوں
جنھوں سے عار تھی ہم کو سو ہم سے عار کرتے ہیں
چھپا لیتا ہے مجھ سے چاند سا منھ وہ خدا جانے
سخن ساز اس کنے جاجا کے کیا اظہار کرتے ہیں
الف کی رمز اگر سمجھا اٹھا دل بحث علمی سے
اسی اک حرف کو برسوں سے ہم تکرار کرتے ہیں
بہت ہے تیز آب جدول شمشیر خوباں کا
اسے پھر پار کردیں ہیں یہ جس پر وار کرتے ہیں
انوکھا تو کہ یاں فکر اقامت تجھ کو ہے ورنہ
سب اس دلکش جگہ سے رخت اپنا بار کرتے ہیں
بلا آفت ہے کچھ دل پر کہ ایسا رنگ ہے ان کا
کسو بے مہر کے تیں میر شاید پیار کرتے ہیں
میر تقی میر