بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند

دیوان سوم غزل 1126
زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند
بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند
گرفت دل سے ناچاری ہے یعنی
رہا ہوں بیٹھ میں بھی کر کے گھر بند
پھنسا دل زلف و کاکل میں نہ پوچھو
پڑا ہے ناگہ آکر بند پر بند
سب اس کی چشم پرنیرنگ کے محو
مگر کی ان نے عالم کی نظر بند
چمن میں کیونکے ہم پربستہ جاویں
بلند ازبس کہ ہے دیوار و در بند
بہت پیکان تیر یار ٹوٹے
تمام آہن ہے اب میرا جگر بند
ہوئیں رونے کی مانع میری پلکیں
بندھا خاشاک سے سیلاب پر بند
کہا کیا جائے ان ہونٹوں کے آگے
ہماری لب گزی ہے یہ شکربند
کھلے بندوں نہ آیا یاں وہ اوباش
پھرا مونڈھے پہ ڈالے بیشتر بند
یہی اوقات ہے گی دید کی یاں
رکھ اپنی چشم کو شام و سحر بند
نچا رہتا تھا چہرہ جس سے سو اب
گریباں میں ہے وہ دست ہنر بند
فن اشعار میں ہوں پہلواں میر
مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند
میر تقی میر