بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے

دیوان اول غزل 534
تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے
بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے
اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جا
کسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے
معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خونریزی کا
پہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے
ہو گا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھو
ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے
جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کی
وقت کے وقت یہ سب منھ کو چھپا بیٹھیں گے
دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہے
اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے
بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کے
گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے
کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیے
دل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے
شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میر
گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے
میر تقی میر