بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

دیوان اول غزل 314
جفائیں دیکھ لیاں بیوفائیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں
تری گلی سے سدا اے کشندئہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
گیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش باز
ہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں
ترے وصال کے ہم شوق میں ہو آوارہ
عزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں
ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا
جو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
انھیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
بنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میر
لڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں
میر تقی میر