بھروسا کیا ہے میرا میں چراغ زیر داماں ہوں

دیوان سوم غزل 1195
جلا از بس تمھارے طور سے اے جامہ زیباں ہوں
بھروسا کیا ہے میرا میں چراغ زیر داماں ہوں
سر حرف و سخن کس کو خیال زلف میں اس کے
تنک میں جو بکھر جاتا ہوں میں خاطر پریشاں ہوں
کہن سالی میں شاہد بازیاں کاہے کو زیبا تھیں
دیا لڑکوں کو دل میں نے قیامت میں بھی ناداں ہوں
کبھو خورشید و مہ کو دیکھ رہتا ہوں کبھو گل کو
مرے انداز سے ظاہر ہے میں اس رو کا حیراں ہوں
کسو کی یاد رو میں اشک آنکھوں سے نہیں تھمتے
برنگ ابر قبلہ آج میں شدت سے گریاں ہوں
بکا جب تک نہیں کرتا ہوں تب تک خیر ہے ورنہ
بلا ہوں فتنہ ہوں آشوب ہوں آفت ہوں طوفاں ہوں
بحال سگ پھرا کب تک کروں یوں اس کے کوچے میں
خجالت کھینچتا ہوں میر آخر میں بھی انساں ہوں
میر تقی میر