بھاگوں ہوں دور سب سے میں کس کا آشنا ہوں

دیوان دوم غزل 889
بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں
بھاگوں ہوں دور سب سے میں کس کا آشنا ہوں
پوچھا کیے ہیں مجھ سے گل برگ لب کو تیرے
بلبل کے ہاتھ جب میں گلزار میں لگا ہوں
اب کارشوق دیکھوں پہنچے مرا کہاں تک
قاصد کے پیچھے میں بھی بے طاقت اٹھ چلا ہوں
تجھ سے متاع خوش کا کیونکر نہ ہوں معرف
یوسفؑ کے ہاتھ پیارے کچھ میں نہیں بکا ہوں
گل پھول کوئی کب تک جھڑ جھڑ کے گرتے دیکھے
اس باغ میں بہت اب جوں غنچہ میں رکا ہوں
کیا کیا کیا تامل اس فکر میں گیا گھل
سمجھا نہ آپ کو میں کیا جانیے کہ کیا ہوں
ہوتا ہے گرم کیا تو اے آفتاب خوبی
ایک آدھ دم میں میں تو شبنم نمط ہوا ہوں
پیری سے جھکتے جھکتے پہنچا ہوں خاک تک میں
وہ سرکشی کہاں ہے اب تو بہت دبا ہوں
مجھ کو بلا ہے وحشت اے میر دور اس سے
جاگہ سے جب اٹھا ہوں آشوب سا اٹھا ہوں
میر تقی میر