بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا

دیوان سوم غزل 1091
بوسہ اس بت کا لے کے منھ موڑا
بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا
ہوکے دیوانے ہم ہوئے زنجیر
دیکھ کر اس کے پائوں کا توڑا
دل نے کیا کیا نہ درد رات دیے
جیسے پکتا رہے کوئی پھوڑا
گرم رفتن ہے کیا سمند عمر
نہ لگے جس کو بائو کا گھوڑا
کیا کرے بخت مدعی تھے بلند
کوہکن نے تو سر بہت پھوڑا
دل ہی مرغ چمن کا ٹوٹ گیا
پھول گل چیں نے ہائے کیوں توڑا
ہے لب بام آفتاب عمر
کریے سو کیا ہے میر دن تھوڑا
میر تقی میر