بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہوجائو

دیوان چہارم غزل 1480
صبر کہاں جو تم کو کہیے لگ کے گلے سے سو جائو
بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہوجائو
برسے ہے غربت سی غربت گور کے اوپر عاشق کی
ابر نمط جو آئو ادھر تو دیکھ کے تم بھی رو جائو
میر جہاں ہے مقامرخانہ پیدا یاں کا نہ پیدا ہے
آئو یہاں تو دائو نخستیں اپنے تئیں بھی کھو جائو
میر تقی میر