بس ہے یہ ایک حرف کہ مشتاق جانیے

دیوان اول غزل 591
کاتب کہاں دماغ جو اب شکوہ ٹھانیے
بس ہے یہ ایک حرف کہ مشتاق جانیے
غیروں کا ساتھ موجب صد وہم ہے بتاں
اس امر میں خدا بھی کہے تو نہ مانیے
شب خواب کا لباس ہے عریاں تنی میں یہ
جب سویئے تو چادر مہتاب تانیے
اپنا یہ اعتقاد ہے تجھ جستجو میں یار
لے اس سرے سے اس سرے تک خاک چھانیے
پھر یانصیب یہ بھی ہے طالع کی یاوری
مر جائیں ہم تو اس پہ بھی ہم کو نہ جانیے
لوٹے ہے خاک و خون میں غیروں کے ساتھ میر
ایسے تو نیم کشتہ کو ان میں نہ سانیے
میر تقی میر