بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے

دیوان اول غزل 589
آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے
بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے
منزل نہ کر جہاں کو کہ ہم نے سفر سے آہ
جن کا کیا سراغ سنا وے گذر گئے
مشت نمک سے بھی تو کبھو یاد کر ہمیں
اب داغ کھاتے کھاتے فلک جی تو بھر گئے
ناصح نہ روویں کیونکے محبت کے جی کو ہم
اے خانماں خراب ہمارے تو گھر گئے
تلوار آپ کھینچیے حاضر ہے یاں بھی سر
بس عاشقی کی ہم نے جو مرنے سے ڈر گئے
کر دیں گے آسمان و زمیں ایک حشر کو
اس معرکے میں یارجی ہم بھی اگر گئے
یہ راہ و رسم دل شدگاں گفتنی نہیں
جانے دے میر صاحب و قبلہ جدھر گئے
روز وداع اس کی گلی تک تھے ہم بھی ساتھ
جب دردمند ہم کو وے معلوم کر گئے
کر یک نگاہ یاس کی ٹپ دے سے رو دیا
پھر ہم ادھر کو آئے میاں وے ادھر گئے
میر تقی میر