برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا

دیوان دوم غزل 678
کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا
معلوم تیرے چہرئہ پرنور کا سا لطف
بالفرض آسماں پہ گیا پھول مہ ہوا
پوچھ اس سے درد ہجر کو جس کا بہ نازکی
جاگہ سے اپنے عضو کوئی بے جگہ ہوا
ہم پلہ اپنا کون ہے اس معرکے کے بیچ
کس کے ترازو یار کا تیر نگہ ہوا
ایسا فقیر ہونا بھلا کیا ضرور تھا
دونوں جہاں میں میر عبث رو سیہ ہوا
میر تقی میر