بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1773
بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے
بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے
بار کل تک ناتوانوں کو نہ تھا اس بزم میں
گرتے پڑتے ہم بھی عاجز آج واں بارے گئے
چھاتی میری سرد آہوں سے ہوئی تھی سب کرخت
استخواں اب اس کے اشک گرم سے دھارے گئے
بخت جاگے ہی نہ ٹک جو ہو خبر گھر میں اسے
صبح تک ہم رات دیواروں سے سر مارے گئے
میر قیس و کوہکن ناچار گذرے جان سے
دو جہاں حسرت لیے ہمراہ بیچارے گئے
میر تقی میر