اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی

دیوان اول غزل 466
غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی
اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی
تھی آبلۂ دل سے ہمیں تشنگی میں چشم
پھوٹا تو نہ آیا نظر اک بوند بھی پانی
مدت سے ہیں اک مشت پر آوارہ چمن میں
نکلی ہے یہ کس کی ہوس بال فشانی
بھاتی ہے مجھے اک طلب بوسہ میں یہ آن
لکنت سے الجھ جا کے اسے بات نہ آنی
کیا جانیے کیا کیا میں لکھوں شوق میں قاصد
پڑھنا نہ کرے خط کا کہیں اس پہ گرانی
تکلیف نہ کر نامہ کے لکھنے کی تو مجھ کو
آجائے جو کچھ جی میں ترے کہیو زبانی
یہ جان اگر بید مولہ کہیں دیکھے
باقی ہے کسو موے پریشاں کی نشانی
دیکھیں تو سہی کب تئیں نبھتی ہے یہ صحبت
ہم جی سے ترے دوست ہیں تو دشمن جانی
مجنوں بھی نہ رسواے جہاں ہوتا نہ وہ آپ
مکتب میں جو کم آتی پہ لیلیٰ تھی دوانی
اک شخص مجھی سا تھا کہ وہ تجھ پہ تھا عاشق
وہ اس کی وفاپیشگی وہ اس کی جوانی
یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر
سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی
میر تقی میر