اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر

دیوان اول غزل 204
اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گذر
اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر
دھڑکا تھا دل طپیدن شب سے سو آج صبح
دیکھا وہی کہ آنسوئوں میں چو پڑا جگر
ہم تو اسیر کنج قفس ہوکے مرچلے
اے اشتیاق سیر چمن تیری کیا خبر
مت عیب کر جو ڈھونڈوں میں اس کو کہ مدعی
یہ جی بھی یوں ہی جائے گا رہتا ہے تو کدھر
آتی ہی بوجھیو تو بلا اپنے سر صبا
وے مشک فام زلفیں پریشاں ہوئیں اگر
جاتی نہیں ہے دل سے تری یاد زلف و رو
روتے ہی مجھ کو گذرے ہے کیا شام کیا سحر
کیا جانوں کس کے تیں لب خنداں کہے ہے خلق
میں نے جو آنکھیں کھول کے دیکھیں سو چشم تر
اے سیل ٹک سنبھل کے قدم بادیے میں رکھ
ہر سمت کو ہے تشنہ لبی کا مری خطر
کرتا ہے کون منع کہ سج اپنی تو نہ دیکھ
لیکن کبھی تو میر کے کر حال پر نظر
میر تقی میر