ایک مدت سے وہ مزاج نہیں

دیوان اول غزل 285
بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں
درد اگر یہ ہے تو مجھے بس ہے
اب دوا کی کچھ احتیاج نہیں
ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن
مرض عشق کا علاج نہیں
شہر خوبی کو خوب دیکھا میر
جنس دل کا کہیں رواج نہیں
میر تقی میر