ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا

دیوان اول غزل 98
کب تلک یہ ستم اٹھایئے گا
ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا
شکل تصویر بے خودی کب تک
کسو دن آپ میں بھی آیئے گا
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھر
کہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پایئے گا
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم
کوئی دن اور بائو کھایئے گا
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوں
یعنی پردے میں غم سنایئے گا
اس کے پابوس کی توقع پر
اپنے تیں خاک میں ملایئے گا
اس کے پائوں کو جا لگی ہے حنا
خوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
شرکت شیخ و برہمن سے میر
کعبہ و دیر سے بھی جایئے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد
کسی ویرانے میں بنایئے گا
میر تقی میر