ایسے گونگے بیٹھو ہو تم تو بیٹھیے اپنے گھر جاکر

دیوان پنجم غزل 1611
بات کہو کیا چپکے چپکے بیٹھ رہو ہو یاں آکر
ایسے گونگے بیٹھو ہو تم تو بیٹھیے اپنے گھر جاکر
دل کا راز کیا میں ظاہر بلبل سے گلزار میں لیک
اس بے تہ نے صحن چمن میں جان دی چلا چلا کر
جیسا پیچ و تاب پر اپنے بالیدہ تھا ویسا ہی
مارسیہ کو رشک سے مارا ان بالوں نے بل کھاکر
ڈھونڈتے تا اطفال پھریں نہ ان کے جنوں کی ضیافت میں
بھر رکھی ہیں شہر کی گلیاں پتھر ہم نے لالاکر
ہاہا ہی ہی نے شوخ کی میرے تنگ کیا خوش رویاں کو
سرخ و زرد ہوئے خجلت سے چھوٹے ہاہاہاہا کر
چاہ کا جو اظہار کیا تو فرط شرم سے جان گئی
عشق شہرت دوست نے آخر مارا مجھ کو رسوا کر
میر یہ کیا روتا ہے جس سے آنکھوں پر رومال رکھا
دامن کے ہر پاٹ کو اپنے گریۂ زار سے دریا کر
میر تقی میر