ایسے گئے کہ ان کی پھر کچھ خبر نہ آئی

دیوان پنجم غزل 1761
کیا کہیے ویسی صورت گاہے نظر نہ آئی
ایسے گئے کہ ان کی پھر کچھ خبر نہ آئی
روٹھے جو تھے سو ہم سے روٹھے ہوئے وداعی
کیا رویئے ہمیں تو منت بھی کر نہ آئی
طالع کا مکث دیکھو آئی صبا جو واں سے
چاروں طرف پھرا کی لیکن ادھر نہ آئی
جی میں جو کچھ کسو کے آوے سو باندھ جاوے
اپنے خیال میں تو اس کی کمر نہ آئی
کیا رات دن کٹے ہیں ہجراں کی بے خودی میں
سدھ اپنی میر اس بن دو دو پہر نہ آئی
میر تقی میر