ایسی شے کا زیاں کھینچے تو دانا ہووے نامحظوظ

دیوان چہارم غزل 1410
عشق ہمارا جی مارے ہے ہم ناداں ہیں کیا محظوظ
ایسی شے کا زیاں کھینچے تو دانا ہووے نامحظوظ
پانی منھ میں بھر آتا تھا اس کے عقیق لب دیکھے
اب ہے تشنہ کام جدائی میر وگرنہ تھا محظوظ
میر تقی میر