ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

دیوان سوم غزل 1230
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے
لطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے
دشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے
داد بے داد رہو شب کو کہ فریاد رہو
میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
میر تقی میر