اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر

دیوان اول غزل 208
یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر
سفر ہستی کا مت کر سرسری جوں باد اے رہرو
یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تامل کر
سن اے بے درد گلچیں غارت گلشن مبارک ہے
پہ ٹک گوش مروت جانب فریاد بلبل کر
نہ وعدہ تیرے آنے کا نہ کچھ امید طالع سے
دل بیتاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر
یہ کیا جانوں کہ کیوں رونے لگا رونے سے رہ کر میں
مگر یہ جانتا ہوں مینھ گھر آتا ہے پھر کھل کر
مرے پاس اس کی خاک پا کو بیماری میں رکھا تھا
نہ آیا سر مرا بالیں پہ اودھر جو گیا ڈھل کر
تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کے میرے
وہ رشک ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گل کر
تری خاموشی سے قمری ہوا شور جنوں رسوا
ہلاٹک طوق گردن کو بھی ظالم باغ میں غل کر
گداز عاشقی کا میر کے شب ذکر آیا تھا
جو دیکھا شمع مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر
میر تقی میر