اک مصیبت ہے میرے تیں درپیش

دیوان اول غزل 240
دل تو افگار ہے جگر ہے ریش
اک مصیبت ہے میرے تیں درپیش
پان تو لیتا جا فقیروں کے
برگ سبز است تحفۂ درویش
ایک دم مہر برسوں تک کینہ
یوں ہی گذری ہے اپنی اس کی ہمیش
فکر کر زاد آخرت کا بھی
میر اگر تو ہے عاقبت اندیش
میر تقی میر