اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر