اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں

دیوان اول غزل 321
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پر
صد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبح
میں شانہ صفت سایہ رو زلف بتاں ہوں
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کی
میں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے
اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں
درپے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
اک وہم نہیں بیش مری ہستی موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میر
اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
میر تقی میر