اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1026
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے
میں اور تو ہیں دونوں مجبورطور اپنے
پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے
روے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یارب
سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے
کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں
دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے
حسن ان بھی معنیوں کا تھا آپھی صورتوں میں
اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے
شادی سے غم جہاں میں دہ چند ہم نے پایا
ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے
ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن
ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے
ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ
ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے
نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں
جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہ سے آشنا ہے
مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر
جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے
تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر
جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے
ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن
جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے
پھرتے ہو میر صاحب سب سے جدے جدے تم
شاید کہیں تمھارا دل ان دنوں لگا ہے
میر تقی میر