اکت لے کے آخر ادا کیا نکالی

دیوان اول غزل 462
ملا غیر سے جا جفا کیا نکالی
اکت لے کے آخر ادا کیا نکالی
طبیبوں نے تجویز کی مرگ عاشق
مناسب مرض کے دوا کیا نکالی
نہیں اس گذرگہ سے آتی ادھر اب
نئی راہ کوئی صبا کیا نکالی
دلا اس کے گیسو سے کیوں لگ چلا تو
یہ اک اپنے جی کی بلا کیا نکالی
رجھا ہی دیا واہ رے قدردانی
وفا کی ہماری جزا کیا نکالی
دم صبح جوں آفتاب آج ظالم
نکلتے ہی تیغ جفا کیا نکالی
لگے در بدر میر چلاتے پھرنے
گدا تو ہوئے پر صدا کیا نکالی
میر تقی میر