اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد

دیوان اول غزل 200
ہوں رہگذر میں تیرے ہر نقش پا ہے شاہد
اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد
طوف حرم میں بھی میں بھولا نہ تجھ کو اے بت
آتا ہے یاد تو ہی میرا خدا ہے شاہد
شرمندئہ اثر کچھ باطن مرا نہیں ہے
وقت سحر ہے شاہد دست دعا ہے شاہد
نالے میں اپنے پنہاں میں بھی ہوں ساتھ تیرے
شاہد ہے گرد محمل شور درا ہے شاہد
ایذا ہے میر پر جو وہ تو کہوں ہی گا میں
بارے یہ کہہ کہ تیری خاطر میں کیا ہے شاہد
میر تقی میر