اچھے ہوتے نہیں جگر خستے

دیوان سوم غزل 1266
ہم پہ رہتے ہو کیا کمر کستے
اچھے ہوتے نہیں جگر خستے
ہنستے کھینچا نہ کیجیے تلوار
ہم نہ مر جائیں ہنستے ہی ہنستے
شوق لکھنے قلم جو ہاتھ آئی
لکھے کاغذ کے دستے کے دستے
سیر قابل ہیں تنگ پوش اب کے
کہنیاں پھٹتے چولیاں چستے
رنگ لیتی ہے سب ہوا اس کا
اس سے باغ و بہار ہیں رستے
اک نگہ کر کے ان نے مول لیا
بک گئے آہ ہم بھی کیا سستے
میر جنگل پڑے ہیں آج جہاں
لوگ کیا کیا نہیں تھے کل بستے
میر تقی میر