اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی

دیوان اول غزل 464
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک
آتی اگرچہ دیر صداے جرس رہی
لطف قباے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز
دیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے
برسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی
ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوں
گردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے
فرصت رہی جو میر بھی سو یک نفس رہی
میر تقی میر