اپنی آنکھوں سے اسے یاں جلوہ گر دیکھیں گے ہم

دیوان چہارم غزل 1435
یارب اس محبوب کو پھر اک نظر دیکھیں گے ہم
اپنی آنکھوں سے اسے یاں جلوہ گر دیکھیں گے ہم
میں کہا دیکھو ادھر ٹک تم تو میں بھی جان دوں
ہنس کے بولے یہ تری باتیں ہیں پر دیکھیں گے ہم
پاس ظاہر سے اسے تو دیکھنا دشوار ہے
جائیں گے مجلس میں تو ایدھر ادھر دیکھیں گے ہم
یوں نہ دیں گے دل کسو سیمیں بدن زر دوست کو
ابتداے عشق میں اپنا بھی گھر دیکھیں گے ہم
کام کہتے ہیں سماجت سے کبھو لیتے ہیں لوگ
ایک دن اس کے کنے جاکر بپھر دیکھیں گے ہم
راہ تکتے تکتے اپنی آنکھیں بھی پتھرا چلیں
یہ نہ جانا تھا کہ سختی اس قدر دیکھیں گے ہم
شورش دیوانگی اس کی نہیں جائے گی لیک
ایک دو دن میر کو زنجیر کر دیکھیں گے ہم
میر تقی میر