آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

دیوان اول غزل 237
کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس
آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
گرم ہو گا حشر کو ہنگامۂ دعویٰ بہت
کاشکے مجھ کو نہ لے جاویں مرے قاتل کے پاس
دور اس سے جوں ہوا دل پر بلا ہے مضطرب
اس طرح تڑپا نہیں جاتا کسو بسمل کے پاس
بوے خوں آتی ہے باد صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کے پاس
آہ نالے مت کیا کر اس قدر بیتاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کے پاس
میر تقی میر