آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا

دیوان سوم غزل 1069
جس خشم سے وہ شوخ چلا آج شب آیا
آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا
اس نرگس مستانہ کو کر یاد کڑھوں ہوں
کیا گریۂ سرشار مجھے بے سبب آیا
راہ اس سے ہوئی خلق کو کس طور سے یارب
ہم کو کبھی ملنے کا تو اس کے نہ ڈھب آیا
کیا پوچھتے ہو دب کے سخن منھ سے نہ نکلا
کچھ دیکھتے اس کو مجھے ایسا ادب آیا
کہتے تو ہیں میلان طبیعت ہے اسے بھی
یہ باتیں ہیں ایدھر کو مزاج اس کا کب آیا
خوں ہوتی رہی دل ہی میں آزردگی میری
کس روز گلہ اس کا مرے تابہ لب آیا
جی آنکھوں میں آیا ہے جگر منھ تئیں میرے
کیا فائدہ یاں چل کر اگر یار اب آیا
آتے ہوئے اس کے تو ہوئی بے خودی طاری
وہ یاں سے گیا اٹھ کے مجھے ہوش جب آیا
جاتا تھا چلا راہ عجب چال سے کل میر
دیکھا اسے جس شخص نے اس کو عجب آیا
میر تقی میر