آہ افسوس صد ہزار افسوس

دیوان اول غزل 238
مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس
ہم تو ملتے تھے جب اہا ہاہا
نہ رہا ووہیں روزگار افسوس
یوں گنواتا ہے دل کوئی مجھ کو
یہی آتا ہے بار بار افسوس
قتل کر تو ہمیں کرے گا خوشی
یہ توقع تھی تجھ سے یار افسوس
رخصت سیر باغ تک نہ ہوئی
یوں ہی جاتی رہی بہار افسوس
خوب بدعہد تو نہ مل لیکن
میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس
خاک پر میر تیری ہوتا ولے
نہ ہوا اتنا اقتدار افسوس
میر تقی میر